ہم لوگ بہت بڑے فنکار ہیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں یہ نہیں دیکھ سکتے کے کو ہم سے آگے کیوں نکل گیا ہے بھئی اس نے محنت کی ہے تو ہی ترقی کی ہے
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Comments
Popular posts from this blog
پاکستان میں غریب کی زندگی کے تلخ حقائق ؟ سال میں دو کپڑے خرید کر گزارا کرے گا جوتے ٹوٹ بھی گئے 6 مہینے پھر بھی نکال لے گا ؟ گاؤں میں رہتا ہے تو مہینے میں صرف ایک چکر شہر کا لگائے گا شہر میں ہے تو تین چار کام کرکے گزاراہ کر رہا ہے ؟ رشتے داروں سےملنے عید پر بھی نہیں جائے گا کیونکہ 1500 دو ہزار رشتے دار کے بچوں کو عید دے گا جو کہ وہ خود قرض پر گزار رہا ہے ؟ ڈیلی سبزی دو کلو کی بجائے ایک کلو خریدے گا پیاز اور گھی کے بغیر بھی ہانڈی پکے گی سالن نہیں تو مرچ کھا کر بھی چلے گا ؟ سال بعد کسان کی گندم کاٹ کر دانے آکٹھے کرے گا پیسے بچ گئے تو اچھا کھانا کھا لے گا یا قرض دے دے گا ؟ اکثر اوقات موبائل کے پیکج کے پیسے بھی نہیں ہونگے ؟ بجلی کا بل گیس کا بل دے کر جیب میں 10 روپے بھی نہیں ہونگے ؟ بیٹیوں کی شادی کیلئے ساری عمر جہیز اکٹھا کرنے پیٹ کاٹ کر تعلیم پڑھانے پر لگ جائے گی ؟ ؟؟؟ غریب ہونا کوئی جرم نہیں پاکستان واحد ملک ہے جو غریب کو سر اٹھانے ہی نہیں دیتا ہر ترقی یافتہ ملک کا قانون ہے کہ غریب بھی اپنی محنت سے امیر ہوسکتا ہے لیکن پاکستان وہ ملک ہے جہاں حرام کھانے والوں نے حلال کھانے والوں کا جی...
ایک درد دل رکھنے والے استاد کا دردناک اور حقیقت پر مبنی میسج۔ آپ سب کی توجہ کے لیے۔ سر برائے مہربانی کوئی بھی پولیسی بنائیں تو اس میں خیال کیجیے گا کہ وہ پولیسی ٹیچر فرینڈلی نہ ہو بلکہ چائلڈ اور پیرنٹ فرینڈلی ہو ۔ سرکاری ٹیچرز کو پہلے ہی بہت سے حقوق حاصل ہیں جس کی وجہ سے ٹیچرز کام نہیں کرتے تو سرکاری ادارے پرائیویٹ سیکٹر سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ تین ماہ موسم گرما کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ 25 دن ٹیچرز کی اپنی سال کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ موسم سرما اور عید اور دوسری چھٹیاں ملا کے ٹیچرز صرف چھ ماہ کام کرتے ہیں۔ چھ ماہ بھی کام پورا دن نہیں کرتے جبکہ سیلری پورے سال کی لیتے ہیں۔ اگر آپ سرکاری اداروں کو بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔ تو ٹیچرز یونین کی بات ہرگز نہ سنیں بلکہ ہیڈ ٹیچرز اور والدین اہل علاقہ سے مشاورت کریں ۔ ایسی پالیسی بنائیں جو چائلڈ فرینڈلی اور پیرنٹ فرینڈلی ہو ۔ ان اقدامات سے پرائمری اور المنٹری ٹیچرز یونین کو ضرور اعتراض ہوں گا ۔ لیکن ان اقدامات سے سرکاری ادارے بہتر ہوں گے ۔ والدین کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھے گا ۔ سرکاری اداروں میں بچوں کی ...
اشفاق احمد اور میاں نظام دین ریڈیو پر پروگرام پیش کیا کرتے تھے ، ایک دن اشفاق احمد نے پوچھا کہ یار سنا ہے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور بڑا نقصان کیا ہے ۔ میاں نظام دین نے جواب دیا ، ہاں ، میرا کوئی ڈیڑھ مرلہ کماد لگا ہوا تھا ، وہ تباہ ہو گیا ہے ۔ اسرائیل کا تو اتنا سا نقصان بھی نہیں ہوامگر ہمارے دوست ایران کو ہر حال میں فاتح قرار دے رہے ہیں ،
Comments
Post a Comment