ہم لوگ بہت بڑے فنکار ہیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچنے میں یہ نہیں دیکھ سکتے کے کو ہم سے آگے کیوں نکل گیا ہے بھئی اس نے محنت کی ہے تو ہی ترقی کی ہے
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
Comments
Popular posts from this blog
ایک درد دل رکھنے والے استاد کا دردناک اور حقیقت پر مبنی میسج۔ آپ سب کی توجہ کے لیے۔ سر برائے مہربانی کوئی بھی پولیسی بنائیں تو اس میں خیال کیجیے گا کہ وہ پولیسی ٹیچر فرینڈلی نہ ہو بلکہ چائلڈ اور پیرنٹ فرینڈلی ہو ۔ سرکاری ٹیچرز کو پہلے ہی بہت سے حقوق حاصل ہیں جس کی وجہ سے ٹیچرز کام نہیں کرتے تو سرکاری ادارے پرائیویٹ سیکٹر سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں ۔ تین ماہ موسم گرما کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ 25 دن ٹیچرز کی اپنی سال کی چھٹیاں ہوتی ہیں ۔ موسم سرما اور عید اور دوسری چھٹیاں ملا کے ٹیچرز صرف چھ ماہ کام کرتے ہیں۔ چھ ماہ بھی کام پورا دن نہیں کرتے جبکہ سیلری پورے سال کی لیتے ہیں۔ اگر آپ سرکاری اداروں کو بہتر کرنا چاہتے ہیں ۔ تو ٹیچرز یونین کی بات ہرگز نہ سنیں بلکہ ہیڈ ٹیچرز اور والدین اہل علاقہ سے مشاورت کریں ۔ ایسی پالیسی بنائیں جو چائلڈ فرینڈلی اور پیرنٹ فرینڈلی ہو ۔ ان اقدامات سے پرائمری اور المنٹری ٹیچرز یونین کو ضرور اعتراض ہوں گا ۔ لیکن ان اقدامات سے سرکاری ادارے بہتر ہوں گے ۔ والدین کا سرکاری اداروں پر اعتماد بڑھے گا ۔ سرکاری اداروں میں بچوں کی ...
اشفاق احمد اور میاں نظام دین ریڈیو پر پروگرام پیش کیا کرتے تھے ، ایک دن اشفاق احمد نے پوچھا کہ یار سنا ہے بھارت نے پاکستان پر حملہ کر دیا ہے اور بڑا نقصان کیا ہے ۔ میاں نظام دین نے جواب دیا ، ہاں ، میرا کوئی ڈیڑھ مرلہ کماد لگا ہوا تھا ، وہ تباہ ہو گیا ہے ۔ اسرائیل کا تو اتنا سا نقصان بھی نہیں ہوامگر ہمارے دوست ایران کو ہر حال میں فاتح قرار دے رہے ہیں ،
پرائیویٹ تعلیمی اداروں نے صحیح بزنس کھولا ہوا یہ بچہ محنتی اور ذہین بچہ ہے 97 فیصد مارکس لے کر بھی اسکول میں روز ذہنی دباؤ کا سامنا کرتا ہے۔ کیونکہ اسکے والدین نے غربت کی وجہ سے اسے سینکڈ ہینڈ کورس دلوادیا اب اسکول ٹیچر روز ڈانٹتی ہے نوٹس لکھ کر بھیج رہی ہیں اور غربت کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ غریب پیرنٹس اسکول انتظامیہ کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر یہ تک نہیں کہتے کہ ہمارے پاس اسی کورس کے پیسے تھے اگر بچے کو رکھنا رکھیں ورنہ اسکول سے ہٹوالیتے یقین سے بتارہی ہوں وہ سمجھوتا کریں گے کیونکہ میں نے بھی دس سال اسکول کی خاک چھانی ہے تھوڑا سا کانفیڈنٹ لائیں پیرنٹس اپنے اندر کم ازکم ہونہار طلبہ کے والدین تو فخر اور اعتماد سے بات کرنا سیکھیں ۔۔۔ حق بات کرنے میں کیا جھجھکنا انکا تو کام ہے اپنے اسکول کی کتابیں کاپیاں مونوگرام تک بیچنا اور والدین کا خون نچوڑنا کم ازکم۔غریب فیمیلیز کا کچھ تو خیال کریں اتنی مہنگائی ہے کہاں ارینج کرینگے پھر جب بچہ پرانے کورس میں پڑھ سکتا ہے تو اسکول والوں کو کیا تکلیف ہے پچھلے دنوں فیس بک فرینڈ نے ایک اسٹوڈنٹ کے لیے ک...
Comments
Post a Comment